29 November 2022
  • 2:01 pm Who did Israel’s Consul General Kobbi Shoshani call first to say ‘sorry’?
  • 2:00 pm ‘Apologise’: Ex Israel envoy on Nadav Lapid’s criticism of ‘The Kashmir Files’
  • 1:50 pm Dibrugarh Varsity Ragging: ‘Was tortured for months before leaping,’ says student
  • 1:49 pm Covid vaccine deaths: Centre says immunisation is voluntary, people must make ‘informed decisions’
  • 1:49 pm SSC GD Constable 2022: Deadline tomorrow for 45,000+ posts, apply now at link here
Choose Language
 Edit Translation
My-Ads
Spread the News

وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف ترکی کے 3 روزہ سرکاری دورے کے بعد آج بروز جمعرات 2 جون کو وطن روانہ ہوئے۔

وزیرِاعظم شہباز شریف وفد کے ہمراہ ایسن بوعا ایئر پورٹ انقرہ سے پاکستان کیلئے روانہ ہوئے۔ ترکی کے وزیرِ تجارت ڈاکٹر مہمت موش نے وزیرِاعظم شہباز شریف اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔

قبل ازیں دورہ ترکی پر موجود وزیراعظم شہباز شریف سے سُتاش گروپ کے بورڈ کے صدر محرم یِلمز کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔

ملاقات میں وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت پچھلے چار سال میں سرمایہ کاروں کی راہ میں حائل کی گئیں رکاوٹوں کا سد باب کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ حکومت ملک میں روزگار کے مواقع اور صنعتوں کے قیام کو یقینی بنارہی ہے۔

ملاقات میں ستاش گروپ ترکی کی جانب سے پاکستان میں ڈیری سیکٹر میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار بھی کیا گیا۔ اس موقع پر وزیرِاعظم نے متعلقہ پاکستانی حکام کو ستاش گروپ سے بھروپور تعاون کی ہدایات بھی جاری کیں۔

واضح رہے کہ وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف 3 روز دورے پر منگل 31 مئی کو ترکی روانہ ہوئے تھے، جہاں انہوں نے یکم جون کو ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سے ون آن ون ملاقات بھی کی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہم اس سال پاکستان اور ترکی کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کا جشن منا رہے ہیں اور طیب اردوان کی متحرک اور بصیرت افروز قیادت میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات نئی بلندیوں پر پہنچ چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک اعلیٰ سطح کے اسٹریٹیجک تعاون کونسل کے اجلاسوں میں جامع مذاکرات کا حصہ رہا ہے اور یہ ہمارا مشترکہ مفادات کی تلاش میں انتہائی اہم ثابت ہوئے ہیں اور طیب اردوان نے اس سلسلے میں اگلے اعلیٰ سطح کے اجلاس کے ستمبر میں اسلام آباد میں انعقاد کا عندیا دیا ہے جس کے لیے میں ان کا مشکور ہوں۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان میں ای کامرس، سیاحت، انفرااسٹرکچر، تعلیم، ڈیولپمنٹ جیسے لاتعداد شعبے میں ترکی ترقی کر سکتا ہے اور ہائیڈرو پاور توانائی کی پیداوار اور قابل تجدید توانائی کے حوالے سے ہمیں ترکی سے مدد ملنے پر انتہائی خوشی ہے جس نے پاکستان میں سرمایہ کاری پر اتفاق کیا ہے، ہمارے ترک بھائی اس سے بہت منافع حاصل کریں گے اور ہمیں سستی توانائی مل سکے گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ خصوصاً فیٹو اور پی کے کے سے لاحق خطرات کے حوالے سے ترکی کے ساتھ کھڑا ہے، ترکی کے دشمن پاکستان کے دشمن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی نے پرامن اور مستحکم افغانستان کے مشترکہ مقصد کے تحت مل کر کام کیا ہے، دونوں ملکوں نے دنیا میں سب سے بڑی مہاجر آبادی کی میزبانی کی اور ہم نے یہ اپنے محدود وسائل میں رہتے ہوئے کیا۔

اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف ترکی کے صدارتی محل پہنچے تو ترک صدر رجب طیب اردوگان نے ان کا نہایت پرتپاک خیرمقدم کیا اور ترک ایوان صدر میں باضابطہ استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی۔

اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے قومی ترانے بجائے گئے اور وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

ترک صدر رجب طیب اردوگان اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے اپنے وفود کے ارکان کا تعارف کرایا جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے ون آن ون ملاقات کی۔

Abdul Gh Lone

RELATED ARTICLES