30 September 2022
  • 9:05 am Farmers’ protest in Islamabad enters third day
  • 9:05 am Comedian Trevor Noah announces exit from ‘The Daily Show’
  • 9:04 am PM Modi to flag off Gandhinagar-Mumbai Central Vande Bharat Express: What awaits passengers on this new train service?
  • 8:50 am Why the decision to implement civil and criminal procedure codes in Meghalaya has caused alarm
  • 8:50 am ‘Uneasy Translations’: Rita Kothari’s new book examines the ‘manyness’ of the languages we use
Choose Language
 Edit Translation
My-Ads
Spread the News

سپریم کورٹ میں چرس اسمگلنگ کے ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس فائز عیسیٰ نے اے این ایف حکام کو جھاڑ پلا دی۔

جسٹس فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ دوسرے مقاصد کے لئے اے این ایف نے اپنی ساکھ خراب کرلی ۔ کل کو یہ کسی جج کی گاڑی سے بھی چرس نکال سکتے ہیں۔

پراسیکیوٹر اے این ایف نے بتایا کہ ملزم موٹرسائیکل پر چرس اسمگل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اے این ایف نے بغیر نمبر پلیٹ والی موٹرسائیکل روک کر تلاشی لی تو سیٹ کے نیچے سے تين کلو چرس برآمد ہوئی۔

جسٹس فائز عیسٰی نے ریمارکس دیئے کہ بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں کو روکنا پولیس کا کام ہے اے این ایف کا نہیں۔ کیا اے این ایف کے پاس بائیک سے متعلق کوئی معلومات تھیں؟ شہر میں ہزاروں گاڑیاں بغیر نمبر پلیٹ گھوم رہی ہوتی ہيں۔ کیا اے این ایف سب کی تلاشی لے گی۔

جسٹس فائز عیسٰی کا کہنا تھا کہ اے این ایف نے دوسرے مقاصد کے لیے اپنی ساکھ خراب کر لی اور خود کو مشکوک بنا لیا۔ سب کو پتہ ہے منشیات کہاں بکتی ہے۔ وہاں اے این ایف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔

جسٹس منصور علی شاہ بولے قانون واضح ہے معلومات ہوں گی تو ہی کارروائی ہوگی۔ پوچھا پولیس کو اطلاع دیئے بغیر کیا اے این ایف گاڑیوں کی تلاشی لے سکتا ہے۔

جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے کہا اے این ایف والوں کو قانون سپریم کورٹ نے تو نہیں پڑھانا۔ اے این ایف کم ازکم اپنا قانون تو پڑھ لے۔ پڑوسی سے جھگڑا ہو تو اس پر بھی منشیات ڈال دیں۔

عدالت نے ملزم کی ضمانت منظور کر لی۔ عدنان خان کے خلاف تھانہ اٹک میں اے این ایف نے مقدمہ درج کرایا تھا۔

Abdul Gh Lone

RELATED ARTICLES