3 February 2023
  • 2:18 am PM Shehbaz invites Imran to APC on ‘national challenges’
  • 1:19 am PM reaffirms Pakistan’s unwavering support to Kashmiri brethren
  • 1:19 am Jaffar Mandokhail appointed PML-N’s Balochistan president
  • 1:04 am Dacoits loot motorcyclists near Kirthar’s Talanga Dam
  • 1:04 am Student’s hand fractured after being tortured at Karachi school
Choose Language
 Edit Translation
My-Ads
Spread the News

قومی اداروں کے خلاف متنازع بیانات کے کیس میں پی ٹی آئی کے سینیٹر اعظم سواتی کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے رہنما اعظم سواتی کو سینیر سول جج محمد شبیر کی عدالت میں آج بروز منگل 29 نومبر کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر پیش کیا گیا۔ آج ہونے والی سماعت میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) کی جانب سے ملزم کے مزید 6 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔

ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم سے ابھی موبائل اور ٹویٹ اکاؤنٹ سے متعلق مزید تفتیش کرنی ہے، جس کیلئے مزید ریمانڈ درکار ہے۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل بابر اعوان نے معزز عدالت کے روبرو استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کو جان کا خطرہ ہے، اس لیے پیشی سے استثنیٰ کی اجازت دی جائے۔ سينيٹر اعظم سواتی کی جانب سے بابر اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سيکیورٹی خدشات پر ملزم کو پیش نہیں کیا ہے۔ اس موقع پر اعظم سواتی نے وڈیو لنک کے ذریعے حاضری لگائی گئی۔

عدالت نے پیشی سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے کیس کی سماعت تین دسمبر تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی رہنما اعظم سواتی کی جانب سے اعلیٰ ترین عسکری ادارے اور اس کے سربراہ کو ایک بار پھر 26 نومبر بروز ہفتہ شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے غیر مہذب زبان استعمال کی گئی تھی۔

بعد ازاں ایف ائی اے کرائم سرکل نے اعظم سواتی کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے انہیں اتوار 27 نومبر کی صبح اسلام آباد میں چک شہزاد کے فارم ہاؤس سے گرفتار کیا۔

اعظم سواتی کے خلاف ایف آئی اے ٹیکنیکل اسسٹنٹ انیس الرحمان کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ درج مقدمے میں تضحیک اور پیکا ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

درج مقدمے میں اعظم سواتی کی ٹوئٹس کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اعظم سواتی نے اپنے ویریفائڈ اکاؤنٹ سے متنازع ٹوئٹس کیں۔

مقدمے میں یہ بھی کہا گیا کہ اعظم سواتی نے اپنے بیان سے فوج کے اندر افسران کو ادارے اور سربراہ کے خلاف اکسانے کی کوشش کی۔ اعظم سواتی کی جانب سے یہ عمل دوسری بار کیا گیا ہے۔

اعظم سواتی کو 16 اکتوبر کو بھی اسلام آباد ڈسٹرکٹ سیشن کورٹ کے ڈیوٹی مجسٹریٹ شعیب اختر کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں ان کا دوسری بار ایک روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا گیا، جب کہ اس سے قبل بھی عدالت نے ان کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔

Abdul Gh Lone

RELATED ARTICLES