3 February 2023
  • 2:18 am PM Shehbaz invites Imran to APC on ‘national challenges’
  • 1:19 am PM reaffirms Pakistan’s unwavering support to Kashmiri brethren
  • 1:19 am Jaffar Mandokhail appointed PML-N’s Balochistan president
  • 1:04 am Dacoits loot motorcyclists near Kirthar’s Talanga Dam
  • 1:04 am Student’s hand fractured after being tortured at Karachi school
Choose Language
 Edit Translation
My-Ads
Spread the News

والد کے انتقال کے بعد رکشا چلا کر گھر کا سہارا بننے والی 17 سالہ لڑکی عزم و ہمت کی روشن مثال بن گئی ہے۔

کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ کی رہائشی 17 سالہ علیشا نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، گھر کا سہارا بننے کے لئے وہ صبح سے شام تک رکشا چلاتی ہے۔

علیشا کا کہنا ہے کہ ان کے والد بیمار تھے تو انہوں نے اسے رکشا چلانا سکھایا، والد کی بیماری کے دوران ہی سے رکشا چلانا شروع کیا۔

باہمت لڑکی کہتی ہے کہ اس کا کوئی بھائی نہیں ، وہ 6 بہنیں ہیں، جن میں سے 4 کی شادی شدہ ہیں، وہ اور اس کی ایک بہن اپنی والدہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ نوکری نہ ملنے پر رکشا لیکر گھر چلانے کی نیت سے نکل پڑی۔

کرائے کے گھر اور دوسرے لازمی اخراجات نکالنے کے لئے اسے روزآنہ 800 روپے بچانے ہوتے ہیں جس کے بعد زندگی کی دوسری ضروریات کے بارے میں سوچ سکتی ہیں۔

علیشا کا کہنا ہے کہ پیٹرول مہنگا ہوچکا اور لوگ بھی اس کے رکشا میں بیٹھنے سے کتراتے ہیں، سڑک پر مجھے مشکل میں دیکھ کر مدد بھی کرتے ہیں اور کچھ دل دکھانے والی بات بھی کرتے ہیں۔

باہمت لڑکی کا کہنا تھا کہ والد کو اس پر بڑا مان تھا، رکشا چلانا شروع کیا تو محلے داروں اور کچھ رشتے داروں نے ہمت بندھائی، وہیں کچھ لوگ والد کے پاس جاکر کہنے لگے کہ لڑکی رکشا کیوں چلا رہی ہے کوئی دوسرا کام بھی تو کرسکتی ہے، والد نے اس وقت انہیں جواب دیا تھا کہ یہ ان کی لڑکی نہیں لڑکا ہے۔

علیشا کا کہنا تھا کہ جب والد حیات تھے تو وہ رکشے میں سواریاں لے جا کر پورے شہر جاتی تھی لیکن اب وہ علاقے سے باہر نہیں جاتی کیون کہ شہر میں خواتین کو تحفظ حاصل نہیں۔

رکشا چلا کر اپنے گھر کا پہیہ چلانے والی علیشا کی حکومت سے اپیل ہے کہ انہیں گھر فراہم کیا جائے تاکہ وہ کرائے کے گھر کی مشکل سے نکل سکے۔

Abdul Gh Lone

RELATED ARTICLES