24 February 2024
  • 6:16 am ‘How is this Naya Kashmir?’ Why end of term of panchayats worsens anxieties about Delhi rule
  • 1:06 am Zhalay Sarhad’s comments on marriage go viral
  • 12:48 am Horrific: Man shot, stabbed by his four friends
  • 12:47 am ‘Suits’ sets new streaming record in 2023
  • 12:37 am Three coordinated attacks thwarted in Balochistan’s Mach: Jan Achakzai
Choose Language
 Edit Translation
My-Ads
Spread the News

سپرہم کورٹ نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ نے پراپرٹی مقدمہ میں معاونت نہ کرنے پر اٹارنی جنرل پاکستان کے استعفے اور تقرری کے معاملے پر نوٹس لے لیا۔

کیس کی سماعت جسٹس فائز عیسی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی سے استفسار کیا کہ نیا اٹارنی جنرل کون ہے؟۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے عدالت کو جواب دیا کہ اٹارنی جنرل اٹارنی جنرل اشتر اوصاف ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہ اشتر اوصاف تو مستعفی ہوچکے ہیں، اور ان کا استعفی منظور ہوچکا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل شفقت عباسی نے عدالت کو کہا کہ مجھے معلوم نہیں کون نیا اٹارنی جنرل ہے۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کو روسٹرم پر بلا لیا، اور استفسار کیا کہ ملک اٹارنی جنرل کے بغیر کیسے چل رہا ہے؟ آپ کو نئے اٹارنی جنرل کا نام تک معلوم نہیں۔

عدالت نے اٹارنی جنرل کے استعفیٰ اور تقرری کے معاملہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری قانون کو ریکارڈ سمیت 17 جنوری کو طلب کر لیا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے حکم پراپرٹی مقدمہ میں ڈپٹی اٹارنی کی طرف سے معاونت نہ کرنے پر جاری کیا، اور ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل آفس سے مقدمات میں درست معاونت نہیں مل رہی۔

Abdul Gh Lone

RELATED ARTICLES